شام میں دشمن اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کا چہرہ مسخ کر رہا ہے، سید حسن نصراللہ

5اردو (Urdu)

بنت جبیل میں اتوار کی رات ایک اہم خطاب میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ہمارا دشمن حملہ کی جرات نہیں کرسکتا، اور کسان اپنا کام جاری رکھیں، آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ کوئی اسرائیلی فوجی ہمارے کسانوں کو خوفزدہ نہیں کرسکتا۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ کوئی اسرائیلی فوجی ہمارے کسانوں کو نقصان دے گا تو ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ شام کا تذکرہ کرتے ہیں، شام میں حزب اللہ کے مختلف اہداف تھے، حزب اللہ کے نظریہ نے علاقہ پر اپنے اثرات مرتب کئے، لبنان عراق اور شام میں یہ اثرات واضح ہوئے۔ میں اجمالاً بیان کرتا ہوں کہ حزب اللہ شام کی جنگ میں کیوں شریک ہوئی، شام مشرق وسطٰی کا قلب ہے، اور شام وہ واحد ملک ہے جو دو خلیجی ممالک اور انکے حواریوں کے مقابل ڈٹ گیا۔

25 مئی یوم تحریر کی مناسبت سے سید مقاومت سید حسن نصر اللہ نے بنت جبیل میں اتوار کی رات اہم خطاب کیا، جس میں سیکرٹری جنرل حزب اللہ کا کہنا تھا کہ شام میں پورے مشرق وسطٰی کی تبدیلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے، لیکن نشانہ صرف شام کو بنایا گیا، شام میں اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا، سر کاٹے جا رہے ہیں، گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ کہ اسلامی تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دشمن کے ساتھ لڑنے کی بہترین مثال 25 مئی 2000ء ہے، جب ہم نے غاصب صہیونی دشمن کو جنوبی لبنان سے مار بھگایا لیکن کوئی درخت، کوئی پتہ نہیں گرا، کسی کا نقصان نہیں ہوا۔ دشمن کے ساتھ لڑنے کی بہترین مثال یہ ہے۔ اور یہ دین اسلام ہے، یہ محمد عربی (ص) کی تعلیمات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فوری طور پر لبنان کے صدر کا انتخاب چاہتے ہیں، ایسے شخص کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں جو سب کو ساتھ لیکر چلے، اور مقاومت کی تحریک کو نقصان نہ پہنچائے۔

http://www.islamtimes.org/vdcdx90ssyt0jx6.432y.html

Write a comment

Comments: 0