حزب اللہ دن رات مضبوط اور طاقتور ہو رہی ہے

7- اردو (Urdu)

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے بد ھ کے روز المیادین ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہو چکی ہے اور یہ سب کچھ حزب اللہ نے جولائی سنہ2006ء میں غاصب اسرائیل کے ساتھ ہونے والی تینتیس روزہ جنگ کے بدلے میں سیکھا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے گذشتہ دنوں لبنان کے جنوبی علاقے لبونہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے نوجوان اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں اور لبونہ میں دو دھماکوں کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جب غاصب اسرائیلی دشمن نے سرحد پار آ کر جاسوسی انجام دینے کی کوشش کی تو پہلے سے نصب شدہ دو بم ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے پھٹے جس کے نتیجے میں غاصب اسرائیلی دشمن کے کئی فوجی زخمی ہوئے جبکہ ہلاک بھی ہوئے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد اسرائیلی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے اور ان کے حواس باختہ ہو گئے کیونکہ وہ اس کاروائی کی توقع نہیں کر رہے تھے۔

سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ لبونہ ایک سرحدی علاقہ ہے اور حزب اللہ کے جوان ہر وقت وہاں پر موجود رہتے ہیں تاہم یہ حزب اللہ کے جوانوں کی ایک حکمت عملی کا حصہ تھا کہ انہوں نے اس مرتبہ زمین میں Land Minesنہیں لگائیں جبکہ اس کے بدلے میں IEDsکا استعمال کیا اور جیسے ہی اسرائیلی فوجی وہاں داخل ہوئے وہ اس کا نشانہ بنے۔

http://www.urdu.shiitenews.com/index.php?option=com_content&view=article&id=8177:2013-08-15-11-53-40&catid=17:2010-03-11-05-12-57&Itemid=122

Write a comment

Comments: 0